Federal Shariat Court's Judgement

‏وفاقی شرعی عدالت نے 19 سال بعد سودی نظام سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔

سپریم کورٹ نے 2002 میں مقدمہ شریعت کورٹ کو دوبارہ فیصلے کیلئے بھجوایا تھا

عدالت نے سود کی تمام اقسام کو اسلام کے متصادم قرار دے دیا۔ 

جن قوانین میں جہاں جہاں سود/انٹرسٹ کا ذکر ہے وہ یکم جون 2022 سے منجمند قرار دے دیے گئے

سودی نظام کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کو پانچ سال کی مہلت

‏بنکوں کا قرض کی رقم سے زیادہ وصول ربا کے زمرے میں آتا ہے، فیصلہ

بنکوں کا ہر قسم کا انٹرسٹ ربا ہی کہلاتا ہے، فیصلہ

قرض کسی بھی مد میں لیا گیا ہو اس پر لاگو انٹرسٹ ربا کہلائے گا، فیصلہ

‏ویسٹ پاکستان منی لانڈرایکٹ بھی خلاف شریعت قرار

آئی ایم ایف، ورلڈبینک سمیت عالمی اداروں سے ٹرانزیکشنز سود سے پاک بنائی جائیں، فیصلہ

0 Comments